For my Urdu readers by Akasious

‘لون وولف ٹِل لاسٹ بریتھ’ کی اشاعت سے قبل تک مجھے لگتا تھا کہ لوگ دوسروں کے غموں کو نہیں سمجھتے لیکن اس کو ‘سیلف پبلش’ کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ لوگ دوسروں کی خوشیوں کو بھی نہیں سمجھتے۔
خیر میرے منفی جزبات اک طرف مجھے آج صرف اچھی باتیں کرنی ہیں جو واقعی میرے قارعین سننا اور جاننا چاہتے ہیں۔ اور ایک انگریزی ناول لکھنے کے بعد یہ پوسٹ میں آج اُردو میں کیوں کر رہی ہوں؟ مجھے معلوم ہے آپ جاننا چاہتے ہیں کہ Akasious کون ہے؟ جو یہ جانتے ہیں وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کیا نام ہُوا بھلا؟ اور جو اس سے بھی واقف ہیں وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ Lone Wolf کیا ہے؟
اور اگر آپ نہیں بھی جاننا چاہتے تو بھی میں آج اظہارِ خیال کرنا چاهتی هوں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ میرے 400- 500 Readers جو میرے لیے بہت اہم ہیں پاکستان سے نہیں ویسٹ سے یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر وہ لوگ ہیں جو اُردو پڑھنا نہیں جانتے لیکن انگریزی جانتے ہیں۔
البتہ مجھے آج پاکستان اور ہندوستان
(some of my beloved readers belong to India, Indian Muslims but unfortunately are not here on Facebook)
کے اردو پڑھنے والے باعزت افراد سے communicate کرنا ہے۔
یہ میری لون وولف سے متعلق آخری پوسٹ ہے جو بیک وقت wattpad، wordpress اور facebook پر شائه کی جا رہی ہے.
مجھے اس کتاب سے متعلق جو بھی feedback ملا وہ اچھا بھی تھا اور بُرا بھی تھا اور میرے لیے دونوں ہی اہم ہیں۔ منفی فیڈ بیک سے میں نے امپروو کیا جبکہ مثبت فیڈ بیک نے مجھے ہمیشہ لکھنا ترک کرنے سے روکا۔
میرا قلمی نام Akasious وہ نام ہے جسے میرے readers جانتے ہیں۔ آپ یہ نام google کر لیں آپ کو میرے علاوہ کسی کا کام Akasious کے نام سے کسی ویب سائٹ پر نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ انگلش ڈکشنری میں ہے ہی نہیں۔
اس نام کی ہسٹری میں آپ سے پھر کبھی شئیر کروں گی۔
اب آتے ہی ‘لون وولف’ کی طرف اس کی کہانی اتنی منفرد اور تحریر کا انداز اتنا زبردست نہیں ہے کہ میں اس کا زکر ہر جگہ کروں لیکن کسی بھی لکھاری (writer) کے لیے اس کی پہلی کتاب جو اہمیت رکھتی وہ اسے کامیابیوں کی بلندیوں پے پہنچانے والی کوئ دوسری کتاب نہیں رکھ سکتی۔
‘لون وولف’ میں نے چند ماہ پہلے مکمل کر کے self publish کی۔ اس کتاب کو لکھنے میں مجھے تقریباََ ایک سال لگا اور اپنے قابلِ احترام readers کے ریسپونس پر بہت حیران ہوئ۔ آج بھی یہ لوگ اپنے فیڈ بیک سے مجھے حیران کر دیتے ہیں۔ میں جس قسم کے فیڈ بیک کی توقع بالکل نہیں کر رہی ہوتی یہ مجھے میری ہی تحریروں کے بارے میں وہ بات آ کے
بتاتے ہیں۔

لون وولف کے پیچھے بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہے اور ان میں زیادہ تر لوگوں کو میں نے کتاب کے اندر مینشن کیا ہے۔
لون وولف کا سینٹرل تھیم صرف یہ ہے کہ ہمارے ‘مسائل کبھی بھی اتنے بڑھے نہیں ہوتے جتنے بڑے یہ دکھائ دیتے ہیں اور اسی لیے ہم صبر اور شکر کریں یا نہ کریں ہمیں خود کو اتنا مضبوط ضرور کر لینا چاہئے کہ ہماری زبان سے کوئ کبھی حرف شکایت نہ سنے۔’

میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بظاہر شکر کی تسبیح پڑھتے دکھائ دیتے ہیں لیکن خودترسی میں یہ لوگ اتنے دھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ انکی زندگیاں گزر جاتی ہیں اور یہ مقصدِ حیات ڈھونڈنے سے قاصر رہتے ہیں۔ میں دوستوں کو اور محسنوں کو بھولتی نہیں ہوں چاہے ان سے رابطہ رہے یا نہ رہے۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جو میری تمام کامیابیوں کے پیچھے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ بھی ہیں جو اس وقت میری اس پوسٹ کو اور میرے جزبات کو سب سے بہتر طور پر سمجھیں گے۔
کتاب لکھنا آسان نہیں ہوتا ایسے میں کوئ ایک بھی ریڈر آ کر آپکو مثبت فیڈ بیک دے تو یہ کوئ نہیں جان سکتا کہ راءیٹر کو کیا محسوس ہوتا ہے لگتا ہے جیسے لکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔ کچھ ایسا ہی میں آج محسوس کر رہی ہوں اگر آپ لکھنا جانتے ہیں اور آپ کے پاس پڑھنے والے ہیں اور اگر آپ بولنا جانتے ہیں اور لوگ آپکی بات سننا پسند کرتے ہیں تو اس سے زیادہ شکر کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ میں آج اسی خوشی کو ان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
انہی باتوں کے ساتھ لوون وولف کی ڈسکشن کو میں آج اپنی طرف سے بند کر رہی ہوں۔ آپ جب چاہے فیڈ بیک دیں میں جواب دوں گی یکن میری طرف سے مزید پوسٹس لون وولف کے بارے میں نہیں ہوں گی البتہ پیج آپ کو اس سے متعلق آگاہ رکھے گا اور اس کا کونٹینٹ آپ سے شئیر کرتا رہے گا۔

تحریری سفر کے آغاز سے اب تک مجھے بہت سے لوگ ملے اور ابھی تک مل رہے ہیں اور امید ہے آئندہ بھی ملتے رہیں گے یہ لوگ آج صرف میرے ریڈرز نہیں بلکہ دوست ہیں۔ ان سب میں لارا او شیزا کا نام سرِ فہرست ہے۔ جبکہ جیا خان جن سے میں حال ہی میں ملی ہوں میری بہت اچھی دوست اور میرے اس فیس بک پیج کی ایڈمن بھی ہیں۔ انہوں نے میرا بوجھ اتنی خوشی سے قبول کیا ہے کہ مجھے اب اس پیج کی بالکل فکر نہیں کہ آیا ریڈرز اپڈیٹ کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہ خود بھی بہت اچھا لکھتی ہیں۔
خیر میں آج آپ سب کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ میرے سپورٹرز اور ریڈرز میں میرے قریبی دوستو، رشتے داروں کے علاوہ میرے وہ کلاس فیلوز بھی شامل ہیں جو میرے مختلف آرٹیکلز پے میری حوصلہ افزائ کرتے رہتے ہیں۔ آپ سب کے قیمتی وقت، فیڈ بیک اور پیار کا بہت شکریہ۔
چاہے پاکستان میں انگلش ریڈر شپ بہت کم ہے لیکن اگر پاکستانی ریڈرز میں محض چار لوگ بھی ہیں تو وہ میرے لیے ان 100 ریڈرز سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جو دنیا کے کسی اور حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ پوسٹ اردو بولنے والے میرے پاکستانی ریڈرز کے لیے ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ آپ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
‘دی آئس از بلیک’ کا پانچواں چیپٹر آ چکا ہے۔ اپنا قیمتی فیڈ بیک دینا نہ بھولیں۔
_Akasious

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s