حسرتیں لوگ اور میں۔

575c94f518f8d35553c722e566c01680

جب حسرتوں کے بے نشاں جزیروں کی کھوج سے تنگ آ کر میں نے سر اٹھا کر ریکھا تو محسوس ہوا کہ حسرتوں سے زیادہ لوگ اہم ہوتے ہیں۔ تو پھر میں نے لوگوں کو اہمیت دی اور اپنی خواہشیں بہت حفاظت سے دل کے کسی معتبر کونے میں کسی مقدس کتاب کی طرح دکھ ریں اور مقدس کتابیں دورِ حاضر میں کم ہی کھولی جاتی ہیں۔
مگر جانتے ہیں میرے ساتھ کیا ہوا؟ جن جن لوگوں سے الفت تھی ان میں سے کچھ لوگ دنیا چھوڑ گئے، کچھ لوگ دنیا میں جیتے جی میرے لیے مر گئے، اور کچھ کی نظر میں میرے وجود کی کوئ اہمیت نہ رہی۔
میں نے الفتیں بھی دیکھیں، نفرتیں بھی، میں نے ان کو آتے بھی دیکھا اور جاتے بھی، میں نے روشنیاں بھی دیکھیں اور اندھیرے بھی، میں نے خوشی میں دوستوں کے ہجوم کے بھی مزے لوُٹے اور دُکھ میں تنہائ سے بھی دو چار ہو کر ریکھا۔
حسرتیں تھیں تو حسرتیں ہی رہیں، لوگ تھے تو لوگ ہی رہے، دنیا تھی تو رنیا ہی رہی۔ حسرتوں کی فطرت ہے وہ پوری نہیں ہوتیں، ہو جائیں تو انہیں حسرت کون کہے؟ لوگوں کی فطرت ہے وہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اور دنیا؟؟ اس کی تو فطرت ہے یہ دھوکا ہے اور یہ دھوکا ہی ریتی ہے۔ ان سب حقائق کا مزہ چکھنے کے بعد جب میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر ایک عجب شکوہ کیا تو لگا جیسے کوئ آواز مجھ سے مخاطب تھی اور مجھ سے کہہ رہی تھی ‘اے میرے بنرے میں تو تیری شاہ رگ سے بھی زیارہ قریب ہوں تو تیری یہ نگاہیں آسمان پر کیا تلاش کر تی ہیں؟’
وہ خدا تو تب بھی قریب ہوتا ہے جب وہ انسان کو حسرتوں کے ان بے نشاں جزیروں کے پیچھے بھاگتا دیکھ رہا ہوتا ہے، وہ تب بھی منتظر ہوتا ہے جب وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ انسان ‘اُسے’ چھوڑ کر ‘لوگوں’ سے بھلائ کی امید کر رہا ہے۔ اور وہ تب بھی قریب ہوتا ہے جب انسان دنیا سے دھوکے کھا کھا کر تھک کر اُس پاک زات سے شکوہ کرتا ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان سمجھتا نہیں ہے۔ انسان ٹھوکریں زمین والوں سے کھاتا ہے اور شکوے عرش والے سے کرتا ہے۔ بے شک انسان خسارے میں ہے۔

_ایکیشیس

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s