میں نہ مظلوم ، نہ مرحوم

وہ اک اندھیر نگری تھی میں نے بہت سنا تھا اس کا۔ مجھے تعجب اس کے اندر کھینچ لایا تو میں نے دیکھا کہ کوئ صاحب بہت پڑھے لکھے معلوم ہوتے تھے اور وہ قوم سے معافی مانگ رہے تھے اپنی کسی مبینہ غلطی پر۔ میں نے ان کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے انہیں ایٹمی قوت بنایا تھا۔ میں نے انکا قصور پوچھا تو مجھے کوئ تسلی بخش جواب نہ ملا۔ اور میں آگے بڑھ گئ۔
کچھ دور آکر دیکھا کہ وہاں اک پڑھے لکھے گھرانے کی خواتین آہ و زاری کر رہی تھیں میں نے وجہ پوچھنی چاہی تو ان کے ھاتھ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے پوسٹر دیکھ کر امڈتے سوالوں کو کہیں اندر ہی دبا لیا۔ میں آگے بڑھ گئ اور دیکھا کوئ سفید فام دو تین شہریوں پر گولیاں برسا کر خاصے تم تراک سے پھر رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ امریکی تھا اور باآسانی رہا ہو گیا تھا۔

مجھے اس قوم پر اک لہزا ترس آیا مگر اس اندھیر نگری میںکچھ مثبت کھوجنے کی خواہش لیے میں چلتی رہی اور وہاں میں نے قوم کو اک رنج و الم میں دیکھا معلوم ہوا کہ کم عمر ترین مائکرو سافٹ پروفیشنل وفات پا گئ ہیں۔ میں نے افسوس کی اک لہر اپنے اندر بھی محسوس کی مگر یہ رضائے الاہی تھی سو میں چلتی رہی۔ آگے چل کر میں نے لوگوں کے ایک ہجوم کو اک نوجوان لڑکی پر لعنت ملامت کرتے دیکھا۔
وہ کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ لڑکی تھی جو کئ برس بعد وطن لوٹی تھی اور سٹیج پر کھڑی رو رہی تھی۔ جسے اس کے لوگ ڈرامہ کہہ رہے تھے۔ میں سوچ میں پڑ گئ کہ ایسا کیوں؟ اگر عافیہ صدیقی اور عرفہ کریم رندھاوا قوم کی بیٹیاں ہیں تو یہ گالی کی مستحق کیوں کر ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ بھی کوئ ڈھکی چھپی روداد نہیں تھی۔

پھر معلوم ہوا یہاں گالی گلوچ سے یا تو مظلوم محفوظ ہے یا مرحوم۔ ورنہ نہ سیاست دان محفوظ ہے نہ عدلیہ نہ ہی دیگر پڑھے لکھے لوگ۔ یہاں تک کہ یہ وہ عظیم قوم ہے جو اپنے محسنوں کا بھی شکریہ ادا ان سے معافی منگوا کے کرتی ہے۔ میں نے اک نظر خود پہ ڈالی میں نہ مظلوم تھی نہ مرحوم میں نے فورن اگلی فلائٹ سے واپسی کی بوکنگ کرائ۔ یہ اندھیر نگری لوگوں نے اندھیر کر رکھی تھی وگرنہ سیاحت کے اعتبار سے یہ ایک انتہائ خوبصورت ملک ھے۔ اسے دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہاں کے لوگوں سے مختلف plat forms پے ملتی بھی رہی تھی۔ بہت زندہ دل اور خوش اخلاق لوگ تھے۔ وہ لوگ انتہائ زہین بھی تھے اور محنتی بھی۔ میں تعجب کا شکار رہتی تھی مگر میں نے کبھی کسی سے سوال نہیں کیا کہ یہ قوم ترقی یافتہ قوموں سے پیچھے کیوں ہے۔ وہاں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے اثرار پر اکثر سوچتی تھی کبھی وہاں ضرور جائوں گی۔ مگر وہاں جا کر اور اس کی تاریخ کے بغور مطالع کے بعد میرا تعجب بھک سے اڑھ گیا۔

ایکیشیس

_AKasious

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s